: خاموش آہیں

 

عنوان: خاموش آہیں

ایک بیٹی تھی، خوابوں سے بھری،
آنکھوں میں اک دنیا سنہری۔
مگر اپنے ہی رشتوں کی دیواروں نے،
اس کی چاہت کی شمع بجھا ڈالی۔

وہ ہنستی تھی، مگر اندر سے ٹوٹ گئی،
وقت کی گرد میں کہیں چھوٹ گئی۔
تنہائی، خوف اور خاموشی کے سائے،
اس کے دل پر ہر دن نئے زخم لگائے۔

وہ پوچھتی رہی، آخر میرا قصور کیا تھا؟
محبت مانگی تھی، غرور کیا تھا؟
مگر جواب میں بس خاموشی ملی،
اور زندگی آہستہ آہستہ دھندلی پڑ گئی۔

پھر ایک دن وہ چلی گئی،
اپنی ادھوری دعاؤں کے ساتھ۔
جوان عمر میں بچھڑ گئی،
مگر چھوڑ گئی اک سوال ہر ہاتھ۔

زمانہ کہتا ہے، وقت سب دیکھتا ہے،
ہر آہ کا اک گواہ رہتا ہے۔
ہم انجام نہیں جانتے، نہ فیصلہ کرتے ہیں،
مگر ظلم کے بوجھ اکثر خود ہی بکھر جاتے ہیں۔

یہ دنیا عارضی ہے، اقتدار بھی، رشتے بھی،
مگر کسی معصوم دل کی ٹوٹی ہوئی دعا نہیں۔
جو آنسو تنہائی میں گرتے ہیں،
وہ خاموش رہ کر بھی خاموش نہیں رہتے۔

اس لیے اے انسان!
کسی کی خوشی نہ چھین،
کسی کا گھر نہ اجاڑ،
کیونکہ زندگی کا حساب
لفظوں سے نہیں، نیتوں سے لکھا جاتا ہے۔


homeacademy

Home academy is JK's First e-learning platform started by Er. Afzal Malik For Competitive examination and Academics K12. We have true desire to serve to society by way of making educational content easy . We are expertise in STEM We conduct workshops in schools Deals with Science Engineering Projects . We also Write Thesis for your Research Work in Physics Chemistry Biology Mechanical engineering Robotics Nanotechnology Material Science Industrial Engineering Spectroscopy Automotive technology ,We write Content For Coaching Centers also infohomeacademy786@gmail.com

إرسال تعليق (0)
أحدث أقدم