: خاموش آہیں

عنوان: خاموش آہیں ایک بیٹی تھی، خوابوں سے بھری، آنکھوں میں اک دنیا سنہری۔ مگر اپنے ہی رشتوں کی دیواروں نے، اس کی چاہت کی شمع بجھا ڈالی۔ وہ ہنستی تھی، مگر اندر سے ٹوٹ گئی، وقت کی گرد میں کہیں چھوٹ گئی۔ تنہائی، خوف اور خاموشی کے …

Load More
That is All